Thursday, 27 December 2012

Hadeesi Hadse 66


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

*****************










جیم. مومن 

Wednesday, 19 December 2012

Hadeesi Hadse -65


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

*************************

(تیسری قسط )








***************
جیم. مومن 

Tuesday, 11 December 2012

Hadeesi Hadse -65


دین 


دین دیانت کا مرکز ہے 
. محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے٠
********************
حدیثی حادثے
پچھلی اشاعت سے آگے - - - 
  





 - - - مسلسل جاری 

جیم. مومن 

Wednesday, 5 December 2012

Hadeesi Hadse 64


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 


 اسلامی مجرم

الله کے منه کہلائی گئی محمد کی باتیں قران مانی جاتی ہیں اور محمد کا قول فعل حدیثیں کہلاتی .محمد کی زندگی میں ہی حدیثیں اتنی ہو گئی تھیں کہ انکو مسلسل راتوں دن کہنے کے لئے کسی انسان کو سیکڑوں سالوں کی زندگی درکار ہے. کہتے ہیں لگ بھگ چھہ لاکھ حدیثیں شمار کی گئی تھیں. یہودیوں نے حدیثوں کے انبار لگا دے تھے. نتیجہ ے کار  حدیثو پر پابندی لگا دی گئی . خود ابو بکر نے 500 اپنے ہاتھوں لکھی ہی حدیثیں اپنے ہاتھ سے جلائیں .محمد کے موت کے بعد حدیثوں کا حوالہ دینا فرد جرم ہو گیا . اسکا حوالہ دینے والے کو کوڑے کی سزا مقرر ہوئی . دو سو سالوں بعد ایک بڈھے "شریف محمد ابن ابراھیم مغیرہ جافئی بخاری " جنکو عرف عام میں امام بخاری کہا جاتا ہے، نے اور انکے ہم امر دوست نے ایک بار پھر حدیثی شوشہ چھوڑے . امام بخاری کے باپ نے ذرتھرستی مذہب ترک کر کے اسلام قبول کیا تھا . امام بخاری کے بارے میں اسلامی مللوں نے بڑی  مبالغہ آرائی کی ہے جیسے کہ تین لاکھ حدیثیں انھیں یاد تھیں، ہر حدیث کو لکھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے وغیرہ ، مگر لکھنے پر آے تو کل 2155 ہی لکھ سکے.
امام بخاری در اصل پس پردہ اسلام کی دھججیاں اوکھہیڑی ہیں . انہوں نے محمد کی تمام خصلتیں اپنی تحریر میں پرو دیا ہے. ظلم ،زیادتی ، شر، جہالت، جھوٹ ، مکر عیارییاں، دغا بازیاں اور بے ایمانی جو محمد میں چھپی ہوئی  تھیں ، کو چن چن کر حدیثوں میں پرویا ہے. امام بخاری نے کیا ہے ایک عظیم کارنامہ مگر اندھے گونگے اور بھرے مسلمان ان حدیثوں کو قران ثانی مانتے ہیں اور ختم قران کی طرح ہی ختم بخاری شریف بھی اپنی اولادوں کو کرا تے ہیں. تعلیم یافتہ مسلمان بھی حدیثوں کی غلاظت کو سمجتے ہیں. مگر انکو کوئی غرض نہیں کہ جاہلوں کوسمجھیں اور الٹا مار کھا یں
 بخاری لکھتا ہے کہ محمد کے پاس کچھ دیہاتی آ ے اور اپنے پیٹ کی خرابی کی داستان سنائی . محمّد نے انھیں اپنے اونٹوں کے باڑے میں رہ کر اونٹوں کے دودھ اور موت پینے کی صلاح دی . وہ باڑے میں چلے گئے اور کچھ دنوں بعد اونٹوں کے رکھوالے کو قتل کر کے اور سبھی اونٹوں کو لیکر فرار ہو گئے . اسلامی سپاہیوں نے انھیں جا گھیرا اور محمد کی عدالت میں لاے .محمّد نے سزا انکو اس طرح دی کہ پہلے انکے دونوں ہاتھ کٹواۓ ، پھر پھر دونوں ٹانگیں کٹوائیں ، اسکے بعد سبوں کی آنکھوں میں گرم شیشہ پلوایا . وہ نیم لاشیں پانی پانی چللاتے رہے، پانی دینا تو در کنار سبھوں کو غار حرا میں پھکوا   دیا.
(بخاری 170 ، صحیح مسلم کتابل کسامت )
یہ محمد کی رحم دلی کا یں نمونہ تھا .  

جیم. مومن 

Wednesday, 28 November 2012

Hadeesi Hadse 62


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

************************************


جیم. مومن 


مسلسل - - - ٠ 

Wednesday, 21 November 2012

Hadeesi Hadse 63


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 
***********

 
جہادی لٹیرے 



پرامن بستی ، صبح تڑکے کا وقت ، لوگ ادھ جگے ، کسی ناگہانی سے بے خبر ، خیبر کے یہودی باشدوں کے کانوں میں شور و گل کی آواز آئ ، انھیں کچھ دیر کے لئے خواب سا لگا ، نہیں یہ تو حقیقت ہے. نعرہ تکبر کی صدا آئ 

"خیبر برباد ہوا ، کیوں کہ ہم جب کسی قوم پر نازل ہوتے ہیں تو اسکی بربادی کا سامان ہوتا ہے
اس نعرہ ے تکبّر کو سہمے ہوئے لوگوں نے تین بار سنا . یہ کوئی اور نہ تھا ، بلکہ سللالہہ علیھ وسلّم"کی بد مست ہو کر گرج رہے تھے. 
نو جوان مقابلے کے لئے تییار ہوتے کہ دروازہ کهولتے ہی شہید کر دئے گۓ . بےبس خاتون اور بچے قید کر کے لونڈی اور غلام بنا لئے گۓ .بستی کا تنکہ تنکہ لٹیروں کا مال غنیمت بن گیا تھا 
انمیں سے ایک لٹیرا وحیی قلبی جو خیبر کی ایک ماہ رو کو دیکھ کر دیوانہ ہو گیا تھا، محمّد سردار لٹیرے کے پاس آیا اور ان سے اس پری زد کی فرمائش کر دیا. محمّد نے فتح کے خمار میں بولے 
"جا دیا "
دوسرے لمحے ہی دوسرا لٹیرا بھاگا بھاگا آیا اور کہا 
یا رسول الله ! صفیہ بنت حیی ، مجسسم حور، یھودیوں کی سردار کو آپ نے وہیی قلبی کو دے دیا؟ وہ تو آپ کے لایق ہے. وہ بنی قریظہ اور بنی نظیر، دونوں کی سردار رہ چکی ہے
محمّد کے منہ میں پانی بھر آیا . انہوں نے قلبی کو بلایا اور کہا 'تو کسی اور لونڈی کو چن لے، صفیہ کو میرے لئے چھوڑ دے. محمّد کی ایک رکھیل امم سلیم نے صفیہ کو دلہن بنایا .اور خود وه دولہ بنے اور اس مظلوم سے اپنا نکاح پڑھوایا
لٹے گھر، پھنکی بستی، باپ، بھائی اور شوھر کی لاشوں پر ایک غم زدہ کو ڈاکووں کے سردار کے ساتھ سہاگ رات منانی پڑی . یہ بات صفیہ کے لئے صدموں کی انتہا تھی.
مسلمان اپنی بیٹیوں کے نام محمّد کی بیویوں، لونڈیوں اور رکھیلوں کے نام پر رکھتے ہیں، یہ گھناونے علما کی کج ادائی ہے جو مسلمانوں کو اندھیرے میں رکھ کر اپنی حرام روٹی کماتے ہیں
قران میں "یا بنی اسرایلہ "کے نام پرمحممدی الله یہودیوں کو مخاطب کرتا ہے،گویہ یہودیوں کے زخم پر مسلسل نمک پاشی کی جاتی ہے. یہودی اگر محممدی امّت سے انتقام لے رہے ہیں تو کیا وہ حق بجانب نہیں ہیں؟
(بخاری ٢٣٧ )

جیم. مومن 

Thursday, 15 November 2012

Muhammad ki Beeviyan


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 
************


نوٹ- سافٹ ویر کی مجبوری کے بائیس تحریر میں ہججے کی غلطیاں ہو سکتی ہے. براہِ کرم تعاون کریں .
**************
محمّد کی بیویاں 
گیارہ تھیں مُستند سی محمّد کی بیویاں،
مبہم و غیر مستند و لونڈی تھیں بے شمار. 
پہلی ہوئیں خدیجہ ، تھیں ماں کی عمر کی،
دو شوہروں کی چھوڑی، بچے بھی تین تھے،
پینسٹھ کی عمر تک تھی فقط انکی زوجیت، 
انکی ہی زوجیت سے ہیں آلے رسول سب، 
جب وہ مریں، رسول تب آزاد ہو گے، 
عیاّشیوں کی دنیا میں آباد ہو گے٠ 
 
ہولا تھی اک دللاله، لئے رشتوں کی خبر، 
پہنچی نبی کے گھر لئے،رشتے دو معتبر ، 
پہلی جو تن و مند تھی ، بیوہ تھی وہ سودہ ،
دوجی جو ابو بکر کی بیٹی تھی عایشہ، 
ہولا نے پونچھا انسے، جسے چاہئے چنیں ، 
بولے رسول حولہ بی! دونوں کوپھانس لیں.
 
سودا تھی بے سہارا ، غرض راضی ہو گئی ، 
لیکن ابوبکر کی ہوئیں مشکلیں کھڑی . 
در اصل سات سال کی بیٹی کے تھے پدر، 
پیغام پا کے پہنچے وہ صللے الہ کے گھر. 
بولے کہ آیشہ مری بچی ہی ہے ابھی ، 
اس پہ یہ نظر بد کیسے ہو تم نبی ؟ 
بولے رسول تم میرے مذہب کے بھائی ہو، 
گر جاں نشینی چاہئے ؟ بولو سگائی ہو؟
رخصت نہ کرنا چاہو تو دو سال ورک لو، 
ایسے نبی کے واسطے انکار مت کرو.
کیا جانے کیسا تھا وہ ابو بکر چووتیا، 
بیٹی پہ ظلم کرنے پہ تییارہو گیا . 
تھا عقد سات سال میں نو سال میں بدا، 
اتھارہ ال میں ہی ہوئی بیوہ عائشہ. 
 
اس پر نبی نے شک بھی کیا روٹھے بھی رہے ، 
جبریل لیکے آے وحیی تب صحیح ہوئے . 
سودا سے سے شوھری کا نہ انصاف کر سکے، 
نو خیز عایشہ کے لئے اس سے لڑ مرے. 
اسکو نماز میں وہ ستانے لگے بہت ، 
موٹی تھیوہ، رقوع میں جھکانے لگے بہت. 
سودا کو ایک دن دیا دھمکی طلاق کی ، 
سودا نے اپنی باریاں تب عایشہ کو دیں. 
کہتے تھے وحیاں آتی ہیں کثرت سے رات میں، 
جب عایشہ لحاف میں ہوتی ہے ساتھ میں. 
 
چوتھی عمر کی بیٹی، حفشہ تھی نام کی، 
بیوہ تھی، خوب رو تھی، اعلیٰ مقام کی. 
حیران ہو گئے تھے عمر، رشتہ جب ملا، 
خاکہ تھا انکے ذھن میں عثمان و بکر کا . 
حائل جو بوڑھا ہو گیا تینوں کے درمیان. 
کس کی مجال تھی کہ ٹھہر پا ۓ پھر وہاں . 
کچھ دن میں لڑ جھگڑ کے حفشہ کو دی طلاق، 
جبریلی گوٹھ سے پٹا، الجھا ہوا نفاق . 
امّت کو ایسے حال میں لازم تھا حلالہ، 
حضرت بری ہیں انکی تو ہستی ہے حرامہ . 
 
زینب تھی پانچویں بہ لقب مادرِ مسکین، 
مجبور بے سہارا تھی، لاکھوں میں تھی حسین. 
جاں بازبہادر کی بیوہ تھی بد نصیب ، 
بس آٹھ مہینے میں ہی رخصت تھیں عنقریب. 
حضرت کے جیتے جی مریں زینب یا خدیجہ ، 
أُمّت کے لئے ماں بنی، باقی بے نتیجہ . 
 
چھٹویں تھیں اُمٌے سلمہ حسین و جمیل تھی، 
بیوہ غیور تھی وہ،ذہین و جلیل تھیں . 
ٹھکرائی پیش کش جو ابو بکر نے دیا، 
رشتہ نبی کا پہچا تو انکار کر دیا. 
پیغمبری وبا سے وہ مجبور ہو گئی، 
عیاشی ایش گاہ میں مامور ہو گئی. 
ہے غور طلب یہ کہ سب عیاش طبع تھے، 
صحابئے کرام و پیمبرکہ بلا تھے.
 
مکروہ تر ہے رشتہ یہ زینب رسول کا، 
کانٹوں کا باپ ہے جہاں، بیٹا ہے پھول کا. 
زینب پھوپھی کی بیٹی محمّد کی بہن تھی، 
منہ بولے بیٹے زیدِ کی منکوحہ دلہن تھی . 
وہ زید جسے گود میں لیکر تھا یہ کہا ، 
الله ہے گواہ کہ اب بیٹا ہے تو مرا . 
 
اک دن نظارہ زید نے دیکھا لہو لہو، 
دیکھا لرز کے پہلو میں حضرت کے تھی بہو. 
باہر جو نکلا وہ تو کبھی گھر میں نہ گھسا، 
جسنے نبی کے واسطے تھا باپ کو تجا .
 
دل چ

بدبو اٹھی سماج میں مضموم فعل کی، 
حضرت نے یوں کہانی بنائی رکھیل کی. 
زینب کے ساتھ آسمان پر تھا مرا نکاح 
الله نے پڑھایا تھا ، جبریل تھے گواہ 
'جائز نہیں نکاح بہو سے' یہ جو سنی 
حربہ بچا تھا سورہ ے قرآن اتار لی. 
بے ختنہ! بے نکاہی کو رکھا تھا عمر بھر، 
ہیں دین کے رخسار پہ جوتے اِدھر اُدھر.

 سپ آٹھویں کی کہانی ہے لو سنو 
لوٹوں میں ملیں عورتین، بیچو، خرید لو. 
سردار حارثہ کی وہ بیٹی تھی جیورییہ ، 
اک خوب رو مصافح کی بیوی تھی ماریہ ، 
قزاق مسلموں کے وہ نرغہ میں آ گئی، 
تھا حسن بے تہاشہ کہ چرچہ میں آ گئی. 
ثابت کو حصّہ مالِ غنیمت میں وہ ملی ، 
اس لالچی نے اس پہ رقم بہاری اک رکھی . 
نیلام پہ تھا حسن خریدارِ عام تھے، 
عربوں میں روایت تھی مقاتب کے نام سے. 
ثابت کی مانگ کو کوئی پوری نہ کر سکا ، 
مل کر بھی جیوریا کا قبیله نہ کر سکا. 
لوگوں نے مشورہ دیا جاؤ نبی کے پاس، 
شاید کوئی سبیل ہو دریہ دلی کے پاس ، 
فریاد لےکے جیورییہ حضرت کے گھر گئی، 
حضرت کی اسکے حسن پر جم کر نظر گئی . 
حضرت نے کہا بی بی ! بچی ایک راہ ہے ، 
وہ یہ کہ بس ہمارا تمہارا نکاح ہو. 
بےبس کو ماننا پڑا بوڑھے کی چاہ کو، 
بس سات ہی مہینے ہوئے تھے بیاہ کو. 
 
عثمان اک صحابی کی بیٹی کا واقعہ، 
بیوی نویں تھی ، نام حبیبہ تھا، یوں ہوا، 
شوھر کے ساتھ اپنے وہ حبشہ چلی گئی، 
شوھر نے اسکو چھوڑ کر عیسایت چُنی. 
حبشہ کی خوش خبر یہ پیمبر کو جب ملی، 
دل پر کہ گویہ عمر کی چپپن چُھری چلی. 
حبشہ کے حاکمو سے تعالّق تھے خوش گوار، 
بارات لےکے پہنچے وہاں دولہ شہ سوار . 
حبشہ کے سربراہ نے آؤ بھگت کیا، 
تحفہ کے ساتھ انکو حبیبہ عطا کیا. 
 
خیبر کے جنگ میں بھی ملی ایک دل ربا، 
جللاد دل نبی کا سنو لوگو واقعہ . . . 
دسویں تھی صفیہ بستی کے مکھیہ کی لاڈلی،
خیبر کی فتح پر وہ وَجِہ کلبی کو ملی، 
اسنے کہا رسول سے کہ معاف خطا ہو ،
بولا کہ غنیمت سے ایک لونڈی عطا ہو. 
بولے رسول، فتح کے عالم میں جا دیا، 
اگلے ہی پل رقیب نے تنگڑی اڑا دیا.
بولا حضور آپنے یہ کیا غضب کیا؟
مکھیہ کی بیٹی اور بہادر ہے وہ بلا .
بولے وجیہ سے تو کسی اور کو چنے،
صفیہ کو پیمبر کے لئے تحفہ چھوڑ دے.
محمّد کا تھا نکاح ، صفیہ کی سسکیاں ،
اسکی سہاگ رات تھی لاشوں کے درمیان.
 
عمرہ میں جا رہے تھے بنا جنسِ مخالف،
موضہ تھا سرف، بیوہ جو برّہ تھی موافف،
راضی ہوئی جو سونی پڑی مانگ بھر دیا . 
برّہ بدل کے نام کو میمونہ کر دیا. 
بیوی یہ گیارھویں تھی ،تھا آخری نکاح ،
پھر مل گئی رسول کو الله کی پناہ. 
 
انکے علاوہ اوربھی خاتون بہت تھیں، 
تھے جنکے ساتھ حضرت آلہ کے راہ و رسم، 
"علماے دین لکھتے ہیں انسے بھی عقد تھا؟ 
الله جانے بہتر " اک کشمکش کے ساتھ . 
 
ایمن سے ماریہ تک، لونڈی تھیں بے شمار، 
اسکے بھی آگے جنسی کارنامے بہت ہیں، 
محممدی انداز کے افسانے بہت ہیں، 
عالمی ثبوتوں کے پیمانے بہت ہیں ، 
امّت میں انکے نام کے دیوانے بہت ہیں. 
خود دیکھیں اور سمجھیں کہ انجانے بہت ہیں.
*****************************************
جیم. مومن 

Wednesday, 7 November 2012

Hadeesi Hadse 61


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 
***

قران سورہ نور 24 کا حقیقی چہرہ، عایشہ زوجے محمّد کے 
زبانی  
***** 


جیم. مومن 

Thursday, 1 November 2012

All Rounder


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 



نوٹ- سافٹ ویر کی مجبوری کے بائیس تحریر میں ہججے کی غلطیاں ہو سکتی ہے. براہِ کرم تعاون کریں . 


آل راؤنڈر

اک واقعہ پر سوز سناتا ہے مسافر،
سر شرم سے جھک جاۓ اگر، اٹھ نہ سکے پھر.
قزاق مسلمانوں کی ٹولی تھی سفر میں .
چھہ سال کا اک بچہ انھیں آیا نظر میں ،
اغوا کیا اسکو بغرض مالِ غنیمت،
بیچا اسے مکّہ میں محمّد نے دی قیمت.
تھا نام اسکا زید پدر اسکا حارثہ،
ماں باپ کا دلارہ، غلامی میں اب بندھا. 
 
بیٹے کے غم میں حارثہ پاگل سا ہو گیا،
اسکو لگا تھا صدمہ، مرا زید کھو گیا،
رو رو کے پڑھا کرتا جدائی کا مرثیہ.
ہراک سے پوچھتا تھا وہ گُم زید کا پتہ.
"لخت جگر کو دیکھ بھی پاونگا جیتے جی "
گریہ پہ اسکے روتی تھی غیروں کی آنکھیں بھی.
ماحول کو رلاۓ تھی فریادِـحارثہ
اک روز اسکو مل ہی گیا زید کا پتہ.
پوچها کسی نے حارثہ تو کیوں اداس ہے؟
مکّے میں تیرا لال محمّد کے پاس ہے.
 
بھائی کو لیکے حارثہ مکّہ رواں ہوا،
جو ہو سکا پھروتی کے اسباب رکھ لیا.
دیکھا جو اسنے زید کو، بڑھ کر لپٹ گیا ،
خود پا کے زید باپ و چچا کو چمٹ گیا.
حضرت سے حارثہ نے رہائی کی بات کی،
حضرت نے پوچھا زید کی مرضی بھی جان لی؟
 
جب زید نے رہائی سے انکار کر دیا ،
بڑھ کر نبی نے گود میں اسکو اُٹھا لیا.
کہتے ہوئے " تو آج سے بیٹا ہے تو میرا،
میں باپ ہوا تیرا، یہ مکّہ ہوا گواہ .
قربان مائی باپ تھے واسطے نبی،
اس گھر میں ہی جوان ہوا زید اجنبی.
 
قلب سیاہ باپ کے مذموم تھے سلوک،
دیکھیں کہ ادا کیسے ہوئے بیٹے کے حقوق .
معصوم تھا، نادان تھا بالغ نہ تھا ا بھی،
ایمن کے ساتھ عقد میں باندھا گیا تبھی.
آمنہ کی لونڈی، ایمن تھی یہ غریب ،
رنگیلے محمّد کے دل کے تھی قریب  .
تیرہ برس میں زید اسامہ باپ تھا.
تاریخ ہے، اسامہ محمّد کا پاپ تھا.

پھر شادی ہوئی زید کی زینب بنی دلہن،
رشتے میں محمّد کی پھوپھی زاد تھیں بہن.
اک روز دفعتاً گُھسا گھر میں زید جب،
زینب کو دیکھا باپ کے جانگوں میں پُر طرب.
کاٹو تو اسکے خون نہ تھا، ایسا حال تھا،
دھرتی میں پانو جم گے اٹھنا محال تھا.
منہ پھیر کے وہ پلٹا تو باھر نکل گیا،
پھر گھر میں اپنے اسنے کبھی نہ قدم رکھا.

"ایمن کی طرح چلنے دے، دونوں کا سلسلہ "
حضرت نے اسکو لاکھ پٹایا، نہ وہ پٹا.
 
اسلام میں نکاح کے کچھ اہتمام  ہیں،
ازواج کے لئے کئی  رشتے حرام ہیں .
جیسے کہ خالہ، پھوپھی، چچی اور مامیاں،
بھائی بہن کی بیٹیاں، بہوؤں کی ھستیاں.

بدبو اٹھی سماج میں مذموم فعل کی،
ماحول میں چرچا ہوئی زینب رکھیل کی.
بڈّھے کے گھر بیویاں موجود چار تھیں،
پھر بھی حوس میں اسکو بہو بیٹیاں ملیں.
 
لیکن کوئی بھی ڈھیٹھہ پیمبر سا تھا کہیں،
لوگوں کی چھ مہ گویاں رکوا دیا وہیں .
اعلان کیا زینب منکوحہ ہے مری،
ہے رشتہ آسمان کا، محبوبہ ہے مری.
زینب کا مرے ساتھ فلق پر ہی تھا نکاح،
الله میاں تھے قاضی تو جبریل تھے گواہ.
قران میں اتری ہی سورہ کا جال ہے،
منہ بولے، گود لئے کی بیوی حلال ہے.
سورہ ے احزاب تفصیل بیاں  ہے .
بد فعل محمد کی تصویر عیاں ہے.
ڈر تھا سماج کا، نہ تھا الله میں کا ڈر،
انگریز بجا کہتے ہیں ، تھے آل راؤنڈر .

*****************************************


جیم. مومن 

Wednesday, 17 October 2012

Qanoon Tarashiyaan


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 


نوٹ- سافٹ ویر کی مجبوری کے بائیس تحریر میں ہججے کی غلطیاں ہو سکتی ہے. براہِ کرم تعاون کریں . 


قانون تراشی


 آٹھٹھارہ ویں سپارے میں قانون کا سبب  
گزرا تھا محمّد پے جوماہِ مضطرب 
بوڑھے نبی کی بیوی تھی نو خیز عایشہ 
تھی خیمہ زن سفر میں وہ ہمراہِ قافلہ 
حاجت رفع میں تھی کہ سبھی کوچ کر گے 
تصدیق جب کیا تو وہ یکدم ٹھہر گے. 
ماحول میں تناو ہوا، کھلبلی مچی 
کچھ دیربعد عایشہ آتی ہوئی  دکھی 
تھی اونٹ پھ وہ تنہا، جوان ایک ہم نکیل 
منظر وہ دیکھ کر، اُٹھے لوگوں کے دل میں کھیل 
اُٹھی دبی زباں میں، بُری چھ مھ گوئیاں 
الزام عایشہ پھ لگا سب کے درمیان 
لوگوں کی باتیں سُن کے نبی بد گماں ہوئے 
دلیل تھی بہتان کی ، وہ ھاں میں ھاں ہوئے 
اُس عایشہ کو بوڑھے نے حیران کر دیا 
جسکے لئے کہ اسنے سب قربان کر دیا 
الله کے رسول کے جبریلِ دورِ بیں 
اس واقعیہ کے موقہ پھ پھٹکے نہیں کہیں 
اس حادثے سے عایشہ بیمار پڑ گئی 
میکے میں جا کے داغِ نموسی میں گڑگئی 
اک ماہ عایشہ پھ بلا کا گزر گیا 
حربہ ے الہام محمّد کو تب ملا 
حضرت پسیجے اور وحیی آ گئی بحق 
عمرِ خزاں تھی پیش، ہوا ختم انکا شک 
پہنچے جو معاف کرنے کو وہ عایشہ کے گھر 
نفرت سے عایشہ نے لیا پھیراپنا سر 
گڑھنے لگے نبی وہیی الہام کی کتھا 
اسنے کہا "میں کیا ہوں یہ جانے میرا خدا"٠ 
سمجھا کے باپ بکر نے اسکوبداع کیا 
حضرت نے جنسی فعل کا تب جایزہ لیا 
پھر زانیوں کے واسطے جرم و سزا بنے 
سو سو لگیںگے کوڑے اگر جوڑا کھا گے 
ہے شرط چار مرد مسلمان ہوں گواہ 
انکے لئے بھی شرع کی لازم ہوئی صلاح 
دیکھو کہ سُرمے دانی میں چلتی سلائی سی 
دیکھو سلائی نے کہ کیا ڈُُبکی لگی بھی؟ 
بہتان دھرنے والے پے کوڑے پچاس ہوں 
نہ ایسے شاہدین اگر انکے پاس ہوں 
گویہ زنا کا کھیل ہو اور ریفری ہوں چار 
وہ مردِ آقتھ کی طرح دیکھے بار بار 
قانون سازیوں پھ ذرا دھیان دیجئے 
خود کو گواہ بننے کا ارمان کیجئے 
قانون احمقانہ کو ذی شان کر دیا 
یعنی کہ زنا کاری کو آسان کر دیا 
شاید ہی کوئی زانی پھنسا ہوگا اس طرح 
شاید کوئی گواہ ملا ہوگا اس طرح 
کتوں کے واسطے یہ سزا با عمل سی ہے 
انکی ہی چسم دید گواہی سہل سی ہے٠ 

************************************************************


جیم. مومن 

Wednesday, 10 October 2012

Naya Elan


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

جیم. مومن 


نوٹ- سافٹ ویر کی مجبوری کے بائیس تحریر میں ہججے کی غلطیاں ہو سکتی ہے. براہِ کرم تعاون کریں . 

نیا ا علان 

زندگی ایک ہی پائی جو ادُھوری ہے بہت  
اسکو غیروں سے چھڑا لو یہ ضروری ہے بہت 
اسکو جینے کی مکمّل ہمیں آزادی ہو 
اسکو شاداب کریں، اسکی نہ بربادی ہو 
اسپے ویسے بھی معاشوں کی مصیبت ہے بہت 
تن کے کپڑوں کی ،گھر و بار کی قیمت ہے بہت 
اس پہ قدرت کے ستم ڈھونے کی پابندی ہے 
ملکی قانون کی، آئیں کی یہ بندی ہے
بعد ان سب کے یہ جو ساسن بچی ہیں اسکی 
اس پہ مذہب نے لگا رکّھی ہیں موھریں اپنی 
خاص کر مذہبِ اسلام بڑا محلق ہے 
اسکے فرمان غلط اس کا غلط خالق ہے
دین یہ کچھ بھی نہیں ، صرف سیاست ہے یہ
بس کہ عربوں کی غلامی و وراثت ہے یہ
سمجھو قران کو بس تھوڑا جسارت کرکے
ترجمانوں کے زریعے، نہ عقیدت کرکے 
جھوٹ ہے اسمیں جہالت ہے، ریاکاری ہے
بغض ہے، دھوکہ دھڑی ہے نِری عیاری ہے 
غور سے دیکھو حیاتوں کی نظامت ہے کہاں؟ 
اس میں جینے کے آداب و طریقت ہے کہاں؟ 
دھاندھلی کی یہ فقط راہ دکھاتا ہے ہمیں  
غیر قوموں سے قدوورت ہی سکھاتا ہے ہمیں
جاہل و وحشی قریشوں کے عداوت کے سبب
اک قبیلے کا تھا فتنہ جو بنا ہے مذہب 
جنگ کرتا ہے مسلمان جہاں پر ہو سکوں
اسکو مرغوب ہے جنگوں کی غذا، کشت و خون 
سچا انسان مسلمان نہیں ہو سکتا
پکّہ مسلم کبھی انسان نہیں ہو سکتا
صحبت غیر سے یہ کچھ جہاں نزدیک ہوئے
تھوڑے تھوڑے ہوئے انسان، زرہ ٹھیک ہوئے
انکی افغان میں اک کھنہ جھلک باقی ہے
وحشت و جنگ و جنوں آج تلک باقی ہے 
ترکِ اسلام کا پیغام ہے مسلمانو 
ورنہ نا گفتنی انجام ہے مسلمانو 
نہ وہیی اور نہ الہام ہ مسلمانو 
ایک اُمّی کا بُنا دام ہے مسلمانو  
اس سے نکلو کہ بڑے کام ہیں مسلمانو 
شب ہے خطرے کی، ابھی شام ہے مسلمانو  
جس قدر جلد ہو تم اس سے بغاوت کر دو 
باقی انسانو سے تم ترک عداوت کر دو 
تمکو ذلّت سے نکلنے کی راہ دیتا ہوں  
 - - -صاف ستھری ہے، تھیں اک صلاح دیتا ہوں 
,لفظ اک ارتقا ہے سمجھو اسے 
اس میں سب کچھ چھیپا ہے، سمجھو اسے
اسکو پیغمبروں نے سمجھا نہیں
تب یہ نادر خیال تھا ہی نہیں 
ارتقا نام ہے، کچھ کچھ بدلتے رہنے کا. 
اور اسلام ہے محدودیت کو سہنے کا
بہتے رہتے ہیں سبھی ارتقا کی دھاروں میں
یہ نہ ہوتا تو پڑے رہتے ابھی غاروں میں
ہم سفر ارتقا کے ہوں، تو یہ ترققی ہے 
کائناتوں میں نہیں ختم، راز باقی ہیں
ترکِ اسلام کا مطلب نہیں ، کمیونسٹ بنو 
یا کہ پھر ہندو وعیسائی اور بُدہشٹ بنو
صرف انسان بنو ترک ہو اگر مذہب
ایسی جدّت ہو سنورنے کی جسکو دیکھیں سب
دھرم و مذہب ہے اک حاجت، نحیف ذہنوں کو 
زیبہ دیتا ہی نہیں یہ شریف ذہنوں کو 
اس سے آزاد کرو جسم اور دماغوں کو 
دھونا باقی ہے تمہیں بے شمار داغوں کو
سب سے پہلے تمہیں تعلیم کی ضرورت ہے
منطق و سائنس کو تسلیم کی ضرورت ہے 
آلہ قدروں کی کریں آؤ ملکے تییاری
شخصیت میں ہو بسی ایک آلہ معیاری
پھر اسکے بعد ضرورت ہے تندرستی کی 
ہے مشققت ہی فقط ضرب، تنگ دستی کی 
پہلے ہستی کو سنوارن تو بعد میں دھرتی
پایں نصلیں، ہو وراثت میں امن کی بستی 
کُل خدا ہے نہیں، یہ کائنات ہے اپنی 
- -اسی کا تھوڑا سا حصّہ حیات ہے اپنی

******************************************************************************

Thursday, 4 October 2012

Hdeesi Hadse60


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 


1694بخاری



محمّد کھانے کے دوران ہریرہ کو ایک گڑھا ہوا افسانہ سناتے ہیں کہ  قیانت کے روز الله اپنے سبھی اولین اور آخرین تک کے نبیو اور انکی امتوں کو اکتها کریگا ، انمیں میں سب کا سردار رہونگا.  سورج  سر سے قریب ہوگا، لوگ پریشانی کے عالم میں اس چٹیل میدان میں ادھر سے ادھر بہاگ رہے ہونگے اور تلاش کر رہے ہوگے کسی ایسے شخص کو جو انھیں گرمی کی مصیبت سے چھٹکارہ دلاۓ. لوگوں میں مشورہ ہوگا کہ چلو آدم عالیہ السلام کے پاس جن کو الله نے اپنے ہاتھوں سے مٹتی کا بنایا او فرشتوں سے سجدہ کرایا - - -
لوگ  آدم عالیہ السلام کے پاس پہنچیںگے اور عرض کرینگے کہ آپ ہمارے مورثــ آلہ ہیں، جائیے الله کے پاس اور اس گرمی سے ہمیں نجات دلائیے.  آدم عالیہ السلام کہیںگے کہ الله آج بہت ہی ناراض ہے، اتنا کہ اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا گیا.میں خود اپنی تکلف میں مبتلا ہون کہ میں نے اس پیڑکو کھا لیا تھا , نا فرمانی کرتے ہوئے جسکو الله نےمنے  مانع کیا تھا. میں خود اپنے نفس کی پرپریشن پریشان، تم کسی اور کے پاس جاؤ.

   یہ پوری ٹیم حضرت نوح کے پاس جایگی اور کہےگی کہ آپ کو الله نے پہلا پیغمبرمبعوث کیا ، کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم لوگ گرمی سے کس قدر پریشن ہیں ، جاکر الله سے کہئے کہ اس آفت کی گرمی سے ہمیں بچاۓ. نوح کہیںگے کہ خدا نے میری صرف ایکآ د عا قبول کرنے کا وعدہ کیا تھا سو ہمنے اپنی امّت کو ختم کر دینے کے لئے د عا مانگ لی اور خود اپنی کی ہوئی بھول سے شرمندہ ہوں . آج الله بہت ناراض بھی ہے کہ ایسا کبھی بھی نہیں دکھا ، میں خود اپنے آپ میں  پریشا ہوں، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ. 
لوگ خلیل الله حضرت ابراہیم کے پاس جاینگے اوران سے درخواست کرینگے کہ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم لوگ کس مصیبت میں گرفتار ہیں، جائے الله کے پاس - - -  وہ کہیںگے کہ آج پرور دگار اتنے غصّے میں ہے کہ اتنا اسکے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا. میں دنیا میں تین جھوٹ بول کر نادم ہوں، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ.
اسکے بعد انسانوں کا وہ جتھا حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے پاس جایگا اوران سے کہیگا ائے الله کے رسول آپ کو الله نے رسول بنا کر اس دنیا میں بھیجا اور آپ سے ہم کلامی کی ، کیا آپ کو دکھائی نہیں پڑ رہا کہ ہم لوگ کس مصیبت میں مبتلا ہیں جاکر الله سے سفارش کیجئے کہ ہماری مصیبت ٹالے. موسیٰ کہیں گے کہ آج الله اس قدرغصّہ میں ہے کہ پہلے کبھی نہ ہوا. مجھے خود میرا گناہ گھیر رہا ہے کہ میں نے دنیا میں ایک شخص کا خون کر دیا تھا جو کہ الله مرضی کے خلاف تھا. مجھے اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ. 
تب لوگ عیسا عالیہ ا لسلام کے پاس جاینگے اور کہے کہ ائے الله کے رسول تجھے دکھائی نہیں پڑ رہا کہ ہم لوگ کس عذاب میں مبتلا ہے؟ جاکر الله سے ہماری سفارش کریں.
عیسا اپنی کسی غلطی کا ذکر نہ کرینگے اور سب کی طرح دوہرایں گے کہ  - - -

تم لوگ محمّد ساللاللہ کے جاؤ، لوگ محمّد کے پاسد جاینگے اورکہیںگے کہ آپ الله کے پیارے رسول ہیں اور الله تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سبھی گناہ معاف کر دئے ہیں ، آپ الله تعالیٰ سے میری سفارش کیجئے کہ کیا آپ کو ہماری مصیبت کی خبر نہیں ؟ یہ سن کر میں چلوں گا اورعرش کے سامنے سجدہ میں گر پڑونگا اس وقت الله اپنے حمد  وسنا ثنا  کے دروازے میرے لئے کھول دیگا ، میں اس قدر حمد و  ثنا کرونگا کہ الله کہیگا , اے محمّد سراٹھا، جا تیری د عا  قبول ہوئی. 
محمّد سر اٹھا کر کہیںگے یا رب امتی امتی امتی ---
غرض تمام مسلمانوں کے لئے جنّت کے دروازے کهول دئے جایں گے

( اور تمام مسلمان بھر بھرا کے جنّت میں گھس جاینگے.)
مسلمانوں!٠ 
کیا تمہیں اکدم  نہیں دکھ رہا ہے؟ بلکل اندھے ہو چکے ہو اور گونگے، بھرے بھی؟ تمہارے ماحول نے تمہاری سوچ سمجھ کو اپاہج کر دیا ہے؟ یہاں تک کہ تمہاری غیرت بھی دھول چکی ہے. ٹھرا اسلام ، تنھارہ ایمانــــ ناقص ، تمہارا فرضی الله اور اسکا شاطررسول  تمہاری آنکھوں میں دھول جونک رہے ہیں اور تم اس کو سرمہ سمجھتے ہو. 
اس غلیظ حدیث کو سو بار پڑھو اور اپنی آنکھ مل کر ہوش میں آؤ. محمّد اپنے بتلاۓ ہوئے تمام نبیوں کی غلطیاں اور کمیاں بتلاتے ہیں کہ کہیں تم  ان کی طرف نہ چلے جاؤ . خود کو سب سے برتر بتلاتے ہیں کہ تم ان کی بکی ہوئی باتوں  پر یقین کر لو کیونکہ  تم دنیا کی کند ذہن ترین مخلوق ہو. میں بار بار تم کو جگاتا ہوں کہ جاگو موت تمہارے سر پر کھڑی ہے. دنیا میں ہر روز کچھ نہ کچھ اسلامی معاملے کھڑے رہتے ہیں جن سے اس بے وقوف قوم کے افراد بے موت مارے جاتے ہیں. لاکھوں انسان اس اسلامی قتل گاہ  کے حوالے ہو چکے ہیں. کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری انسانی نسلیں ختم ہو جایں؟ اٹھو ، آنکھیں کھولو اور ترک اسلام کرکے ایک ایمان دارمومن بن جاؤ،  


جیم. مومن 

Saturday, 29 September 2012

Hadeesi Hadse 59


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 



نوٹ- سافٹ ویر کی مجبوری کے بائیس تحریر میں ہججے کی غلطیاں ہو سکتی ہے. براہِ کرم تعاون کریں . 

مومن بنام مسلم 
  
مسلمانو !
خود کو بدلو . بنا خود کو بدلے تمہاری دنیا نہیں بدل سکتی. تمکو مسلم سے مومن بننا ہے. تم اچھے مسلم ضرور ہو سکتے ہو مگر مومن قطعی نہیں. اس باریکی کو سمجھنے کے بعد تمہاری کاینات بدل سکتی ہے. مسلم ہونا بہت ہی آسان ہے، بس کلمۂ شہادت لاالہاللللہ محممدر رسولللہ پڑھنے کی دیر ہے. یعنی الله واحد کے سوا کوئی الله نہیں ہے اور محمّد اسکے رسول ہیں٠ 
مومن فطری صداقت پر ایمان رکھتا ہے ، غیر فطری باتوں پر وہ یقین نہیں کرتا . مَثَلَن اسکا کیا سبوط ہے کہ محمّد الله کے رسول ہیں؟ اس واقعے کو نہ کسی نے دیکھا اور نہ سنا کہ الله محمّد کو رسول بنا رہا ہے. جو ایسی باتوں پر یقین رکھتے ہیں وہ مسلم ہو سکتے ہیں مگر مومن کبھی نہیں ہو سکتے. 
مسلمان خود کو صاحب ایمان کہ کر عوام کو دھوکہ دیتا ہے کہ لوگ اسکے لیں دن کے بارے میں اسکو ایماندار سمجھیں، مگر اسکا ایمان تو کچھ اور ہی ہوتا ہے. وہ ہوتا ہے کلمہ نہ حق ، وہ محمّد کے ہستی پر ایمان رکھتا ہے. 
اسی لئے وہ کسی بات کا وعدہ نہیں کرتا اور ساتھ میں انشا الله لگا دیتا ہے. یہ انشا الله اسکی وعدہ خلافی، بے ایمانی ،دھوکھہ دھڑی اور حق تلفی کے لئے بڑے کام کا کلمہ ہے. اسلام جو ظلم زیادتی جنگ ، جنوں بے ایمانی ، بد فعلی اور بیجه جسارت کے ساتھ ماضی میں سر سبز ہوا، اسکا پھل چہکتے ہوئے اپنی رسوائی کو د ھو ڈھو رہا ہے. ایسا بھی وقت آ سکتا ہے کہ اسلام اس سر زمین پر شجر ممنوعہ ہو جاۓ. آپ کی نسلوں کو ثابت کرنا پڑے کہ وہ مسلمان نہیں ہے اور لوگ انکی بات کا یقین نہ کریں. اسکے پہلے تم ترک اسلام کرکے صاحب ایمان ہو جاؤ. وہ ایمان جو ٢+٢=٤ ہے ، جو پھول میں خوشبو کی طرح ہے. جو انسانی درد کو چھو سکے، جو اس دھرتی کو اپنے آئندہ نسل کو جنّت نما بنا سکے. اس اسلام کو خیر باد کرو جولاالہ اللللہ محممدر رسولللہ کے وہم سے تم کو جکڑے ہوئے ہے.. 

Hadeesi Hadse


جیم. مومن 

Wednesday, 19 September 2012

Hadeesi Hadse 58


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

جیم. مومن 
********************


درجاتިِި انسانی

میں درجہ اوّل میں اس انسان کو شمار کرتا ہوں جو سچ بولنے میں زرہ بھی دیر نہ کرتا ہو. اسکا مطالعہ اشیاۓ قدرت کے معاملے میں فطری ہو ،( جنمیں انسان بھی ایک اشیہ ہی ہے). وہ غیر جانبدار ہو ، عقیدہ، آستھا اور مذہبی اصولوں سے بالہ  تر ہو. جو جلد بازی میں کہے گے "ہاں " کو سچ سمجھ کر نہ کہنے میں اک دم نہ گھبراۓ اور معاملہ ساز ہو ، جو سب کا خیر خواہ ہو اور کسی کو جسمانی، ذہنی اور ملی نقصان نہ پنھچاۓ . جسکے ہر عمل سے اس دھرتی کی مخلوق کا بھلا ہو. جو بے خوف اور بہادر ہو، اتنا بہادر کہ دوذخ ہ میں جلانے والا نا انصاف الله بھی اسکے سامنے آ جے تو وہ اسے بھی دست و گریبان ہو جاۓ ایسے میاری ہستی کومیں درجہ اوّل کا انسان شمار کرتا ہوں ایسے لوگ ہی صاحبِ ایمان اور مردِ مومن ہوا کرتے ہیں.

دوم درجہ لوگ
میں دویم درجہ ان لوگوں کو دیتا ہوں جو اصوولوں کے مارے ہوتے ہیں.یہ سیدھے سادے اپنے پرکھوں کی لیک پر چلنے والے لوگ ہوا کرتے ہے. پکّے مذہبی مگر اچھے لوگ ہیں تو سماج کے لئے یہ غنیمت لوگ ہیں. انکو اس بات سے کوئی مطلب نہیں کہ انکا مذہب اب سماج کے لئے زہر بن چکا ہے. انکا عقیدہ کہتا ہے کہ انکی نجات روزہ، نماز اور پوجہ پا ٹھ  سے ہی ہونا ہے. عربی اور سنسکرتی میں ان سے کیا پڑھایا جاتا ہے، اسے انکا کوئی مطلب نہیں. یہ اکثر ایمان دار اور نیک لوگ ہوا کرتے ہیں. بھولے بھالے  یہ لوگ خود اپنے لئے کانٹے بوے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی رہ پر چلانا پسند کرتے ہیں. دھرم گروں، علما اور سرمایا داروں کی استحصالی بنیادیں انہی لوگوں کے کاندھوں  پر رکھی ہوئی ہیں.

ناقص جمہوریت کی وجہ یہی لوگ ہیں.

سویم درجہ لوگ
ہر قدم پر انسانیت کا خون کرنے والے، تلوار کی نوک پر خود کو محسنِ انسانیت کہلانے والے، دوسروں کی محنت پر تکیہ لگانے والے، لففاظی اور زورِکلام کے ذریعہ غلاظت کی روٹی کمانے والے ، انسانی سروں کے سیاسی سوداگر، دھارمک چولے  کے یہ ییر سوامی، بابا، گرو، مہاتما، مذہبی دستر پہنے ہوئے مکّار علما ، سب کے سب گرے ہوئے سویم درجہ کے لوگ ہوتے ہیں. انھیں کی سر پرستی میں  ملک کے مٹھی بھر سرمایادار بھی ہیں ، جو عوام کو لوٹا کر اپنی جھولی بھرتے رہتے ہیں اور جب وہ منہ تک بھر جاتی ہے تو اسے ممالک غیر میں چھپاتے فیتے ہیں جو اپنے آپ میں غاصب ہیں.

یہی لوگ جنکا کوئی فی صد بھی نہیں بنتا ، دویم درجے کے لوگوں پر حاوی ہیں اور اول درجہ کا مذاق ہر موڑ پر اڑاتے پر آمادہ رہتے ہے ، صدیوں سے انسانی سماج کو پامال کے ہوئے ہیں.